ابنا: علیکم السلامسہم امام سے سنی یا ہندو کی مدد نہیں کی جا سکتی سہم امام، امام زمانہ سے مخصوص ہے جس کو اپنے مجتہد تک پہنچانا واجب ہے۔سنی یا ہندو وغیرہ کی مدد اس عنوان سے کرنے کے لیے کہ ان کا دل اسلام یا شیعت کی طرف راغب ہو جائے زکات کو رکھا گیا ہے زکات کے مصارف میں سے ایک مصرف مولفۃ القلوب ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ دوسرے مذہب والوں کو دے کر ان کا دل شیعت کی طرف موڑا جائے۔سہم امام بغیر مجتہد کی اجازت کے خرچ نہیں کیا جا سکتا آقائے سیستانی کا بھی یہی نظریہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
8 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 470763
salaam mera sawal ye h k kiya sehm e imam sy kise ahly sunnat ya hindu ki madad ki ja sakte hy shadi krwany main is bary main aga sistane ka kiya fatwa h